Wednesday, 2 July 2014

پاک آرمی ارضِ پاکستان کا حصار

پاک آرمی ارضِ پاکستان کا حصار

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

جب بھی نام نہاد دانشور اپنی عقل کے گھو ڑے دوڑانے کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور اُن کے سامنے کوئی اور مسلہء نہیں ہوتا تو یہ کاغذی شیر اور لبرل فاشسٹ پاک فوج کے خلاف زبان درازی شروع کردیتے ہیں۔زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی یہ پیاری زندگی اربوں روپے سے خریدی نہیں جاسکتی۔ ڈالر زندگی کا نعم البدل نہیں ہیں۔صرف چند ساعتوں کے لیے غور کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ پاکستان کے مشرق میں جو ہمسایہ موجود ہے یہ وہ ہمسایہ ہے جو کہ اکھنڈ بھارت کا پرچار کرنے والا ہے اور بھارت کی تقسیم کو ہنوز پاپ یعنی گناہ گردانتا ہے۔ ان حا لات میں جب کشمیر لہو لہو ہے۔ سات لاکھ سے زائد ہندوستانی فوج نہتے کشمیریوں سے برسرپیکار ہے تو پوری قوم نے دیکھ لیا ہے کہ امن کی آشا کسی طرح بھی اپنا رنگ جمانے میں برُی طرح ناکام رہی ہے۔ بھارت کے جنگی جنون کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس نے امسال بھی اپنے دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اور امریکی گٹھ جوڑ کے ساتھ بھارت کا سول نیوکلر ٹیکنالوجی کا معائدہ کسی اور مقصد کے لیے نہیں یہ سب کچھ پاک سرزمین کے خلاف ہی ہے۔ثقافتی معاذ پر جس طرح سے بھارت نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور پاکستانی چینل جس دھڑلے سے ہندوستانی سوچ کو پروان چڑھانے کی کوششں میں ہیں اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لباس میں مشرقی اور اسلامی رنگ ناپید دیکھائی دے رہا ہے۔ ہمارے پاکستانی چینلز کو تو اپنے کاروبار سے غرض ہے قوم کی سوچ ، ثقافتی بربادی اور اسلامی اقدار سے دوری کا ان کو کیا لینا دینا۔ ان حالات میں پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کا کردار محبِ وطن اور اسلام پسند طبقے کے لیے قابلِ طمانیت ہے۔ لیکن بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے کرپٹ عناصر جو خود تو ناکام ہیں اور قوم ان سیاسی حکومتوں کی کارکردگی سے اچھی طرح واقف ہے۔کہ پاکستانی قوم افراطِ زر کی چکی میں کس بُری طرح پیس رہے ہیں۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ ملک میں فوجی مارشل لاء ہونا چاہیے بلکہ پاک فوج کا کام وطن پاک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور بس۔ سیاست میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر کوئی بھی طالع آزما ء کوئی بھی بھی منفی قدم اُٹھاتا ہے تو فوج بحثیت ایک ادارہ اُس کی ذمہ دار نہیں ہے ایسا ایکٹ ایک شخص کا ذاتی ایکٹ تصور ہوگا نہ کہ پوری فوج کے پیچھے پڑ کے اُس کا مورال منفی جانب لے جایا جائے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نام نہاد سیکولر دانشور طبقہ جو خود اور ملکوں کی قومیت کا حامل بھی ہے وہ پاکستانی آرمی اور آئی ایس آئی کے خلاف زبان درازی کرتا ہے۔ یہ امر اس ملک کے بسنے والے 99% افراد کے لیے تکلیف کا باعث ہے کہ وطن فروشی کے حاملین ہماری پاک فوج کو اس طرح ڈسکس کریں جیسے کہ وہ کسی اور ملک کا ادارہ ہے۔ اگر کوئی آمر آئین کو پا مال کرتا ہے تو اُس کو ایک فرد کی حثیت سے ملکی قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنادینا چاہیے لیکن پرویز مشرف جیسے ڈکٹیڑوں کے اعمال کی پاک آرمی جواب دہ نہیں ہے۔ یہ ایک ادارہ ہے اور اس نے ہمیشہ پاک وطن کی آبیاری اپنے لہو سے کی ہے یہ ملک گارئے اور مٹی سے نہیں بلکہ ان پاک فوج کے شہداء کے لہو سے قائم دائم ہے اس کی مٹی میں راجہ عزیز بھٹی، سرور شھید، راشد منہاس جسے عظیم شہداء کا خون ہیں اور اُس کے ساتھ ساتھ ایسے ہزاروں جانباز ہیں جن کے ناموں کو شائد قوم نہیں جانتی لیکن وہ بھی مادر وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ کیا پرویز مشرف کو ہمارئے سیاسی قیادت نے گارڈ آف آنر پیش نہیں کروایا تھا کیا اسی سیاسی قیادت نے مشرف جیسے آمر کے ہاتھوں حلف نہیں اُٹھایا تھا۔ نام نہاد لبرل سیکولر سوچ کا حامل طبقہ اپنی آزادیِ رائے کو وطن کی خاطر ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھنے والے پاک فوج کے جانبازوں کے خلاف استعمال کرنے کی بجائے اپنے پاس رکھے ۔ خدانخواستہ اگر وطن پر کوئی کڑا وقت آیا تو یہ اشرافیہ اور لبرل طبقہ تو پہلے ہی دوہری دوہری قومیتوں کا حامل ہے اس نے تو اپنے غیر ملکی آقاوٗں کی خدمت میں پیش ہوجانا ہے وطن کا دفاع اسی پاک آرمی اور 99% عام لوگوں نے کرنا ہے جن کا ٹھکانہ اس وطن کے سوا کہیں اور نہیں۔ مووجودہ حالات میں نفوس پذیری کے حامل طبقے جن میں اساتذہ ، طلبہ، وکلاء، ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں کو آگے بڑھ کر وطن سے محبت کے جذبے کو پروان چڑھانا چاہیے۔اشرافیہ اور لبرل فاشسٹ کے اہل وعیال تو پہلے ہی دوسرے ممالک میں تعلیم اور شاپنگ کی غرض سے دورروں پر رہتے ہیں۔ اس وطن کے لیے یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ پڑی جو ضرورت تو ہم دیں گے لہو کا تیل چراغوں میں جلانے کے لیے۔ لیکن ایک بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جس طرح ہمارے ملک کی اشرافیہ نے ملکی وسائل کو یرغمال بنا رکھا ہے اور گذشتہ پانچ سالوں میں جمہوریت بہترین انتقام کے دعویداروں نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں ایسے چکر دیے ہیں کہ خدا کہ پناہ۔ بیروزگاری کی حالت یہ ہے کہ ایم بی اے، ایم ایس سی، بی کام جیسی پیشہ ورانہ ڈگریوں کے حامل افراد خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ جب حکومت فیل ہو جاتی اور عوام سے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے تو پھر واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ پانج سالہ موجودہ جعلی جمہوریت نے عوام کو کونسا سکھ دیا ہے؟ فوجی آمریت کسی طرح بھی ملک کی سماجی معاشی، عمرانی اور جغرافیائی سوچ کے لیے مفید نہیں ہے اور نہ ہی آمریت کی کسی بھی صورت میں وکالت کی جاسکتی ہے لیکن اس جعلی جمہوریت نے قوم کو جو امن سکون فراہم کیا ہے وہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔اقربا پروری کریپشن کا یہ عالم کہ اسِ ملک کی بدقسمتی کہ جس شخص کو بھی عدالتِ عظمیٰ نے کرپٹ قرار دیا جمہوریت بہترین انتقام کے دعویداروں نے اُس شخص کو اُٹھا کر اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچا دیا ۔ مشرف اور پیپلزپارٹی کے باہمی میل جول سے مصالحت کا جو بیج بویا گیا اُس کا خمیازہ اس قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔عدلیہ کے ہزاروں احکامات کو جمہوریت کے علمبرداروں نے جس طرح پامال کیا ہے وہ پا کستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں آمریت کسی بھی حالت میں خواہ اُس کو فوجی ڈکٹیٹر نے ڈھال بنا رکھا ہو یا ذرداری صاحب نے سیاسی ڈکٹیٹرشپ قائم کررکھی ہو اس میں کوئی فرق نہیں ۔ لیکن ایک بات ہمیشہ ملحوظ خاطر رکی جانی چاہیے کہ پاکستانی فوج کے مورال کو ہمیشہ بلند رکھنا چاہیے۔ پاک فوج جس طرح عیار دُشمن کے ساتھ برسر پیکار ہے پاکستان میں رائے عامہ کے افراد کو پاک فوج کے حوالے سے منفی تبصرے کرنے والے نام نہاد جعلی دانشوروں کوُ منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ راقم کی جانب سے پاک آرمی کو سلام اور اُن کی خدمت یہ عرض ہے کہ ۔
زند گی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیے
عہدِکم ظرف کی ہر بات گوارہ کرلیں
ُٓ
پاکستان زندہ باد۔ پاک فوج زندہ آبا
د